عورت کی خاموش جنگ اور مساوی حقوق کا سوال
یہ ہمارے معاشرے کا ایک نہایت افسوس ناک تضاد ہے کہ عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے تو بلند مقام پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن اسے ایک برابر انسان سمجھنے اور اس کے ساتھ مساوی سلوک کرنے میں اکثر معاشرہ ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ہم اس کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہیں، اس کے صبر کو سراہتے ہیں اور اس کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، لیکن جب وہ مساوی حقوق، برابر حیثیت، اپنی آواز سنے جانے اور انسانی وقار کا مطالبہ کرتی ہے تو اکثر اس کے مطالبات کا جواب مزاحمت اور مخالفت کی صورت میں دیا جاتا ہے۔
پاکستان کی لاکھوں خواتین کے لیے مساوات کی جدوجہد کا آغاز پارلیمان، عدالتوں یا سڑکوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا پہلا محاذ ان کے اپنے گھر ہوتے ہیں، جہاں بند دروازوں کے پیچھے ان کی رائے کو کم اہمیت دی جاتی ہے، ان کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو ایک فطری ذمہ داری سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
پدرشاہی سوچ:ناانصافی جو گھروں سے شروع ہوتی ہے
یہ پدرشاہی نظام کی تلخ حقیقت ہے۔ یہ ہمیشہ کھلی دشمنی یا تشدد کی شکل میں سامنے نہیں آتا، بلکہ اکثر ہماری روزمرہ زندگی میں خاموشی سے سرایت کرجاتا ہے۔ اس کا اظہار ان فیصلوں میں ہوتا ہے جو خواتین کو اعتماد میں لیے بغیر کرلیے جاتے ہیں، اس توقع میں کہ ہر بار سمجھوتہ عورت ہی کرے، اور اس سوچ میں کہ خاندان کی عزت برقرار رکھنے کی پوری ذمہ داری صرف عورت کے کندھوں پر ہے۔
کیپٹن(ر) محمد صفدر کے حالیہ متنازع بیان نے ایک بار پھر ان رویوں کو بے نقاب کردیا ہے جن کا خواتین آج بھی سامنا کررہی ہیں۔ چنیوٹ میں ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صفدر نے ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کے نعرے پر تنقید کی اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر خواتین اپنے جسم پر اختیار کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج کے دوران مذہبی علماء سے دعاؤں کی درخواست کیوں کرتی ہیں؟
ایسے بیانات کی غیر مبہم اور دوٹوک مذمت ہونی چاہیے۔ کینسر ایک تباہ کن بیماری ہے جو صرف مریض کو ہی نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کو تکلیف اور آزمائش میں مبتلا کردیتی ہے۔ اس انسانی المیے کو عورت کی جسمانی خودمختاری کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرنا نہایت غیر حساس اور سراسر غیر منصفانہ رویہ ہے۔ کسی عورت کو اس کی بیماری، اس کے عقیدے یا اپنے وقار کے ساتھ جینے کے مطالبے پر تمسخر کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ایمان اور شخصی آزادی میں کوئی تضاد نہیں۔ ایک عورت خدا پر ایمان بھی رکھ سکتی ہے، بیماری کے دوران دعاؤں کی درخواست بھی کرسکتی ہے اور اس کے ساتھ اپنے جسم اور زندگی سے متعلق فیصلے کرنے کے حق پر اصرار بھی کرسکتی ہے۔ دعا کی درخواست کا مطلب اپنی عزتِ نفس یا خودمختاری سے دستبردار ہونا نہیں۔ مذہب کا مقصد انسان میں ہمدردی اور رحم پیدا کرنا ہے، کسی کے حقوق پر سوال اٹھانے کا جواز فراہم کرنا نہیں۔
مریم نواز کا پیغام اور عورت کے ان دیکھے زخم
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس تنازع پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے ردعمل دیا، جس میں انہوں نے ایک بہت بڑے معاشرتی المیے کی جانب توجہ دلائی۔
ان کے الفاظ نے اس حقیقت کو چھوا ہے جس کا تجربہ بہت سی خواتین کرتی ہیں، لیکن جس پر وہ شاذونادر ہی کھل کر بات کرپاتی ہیں۔ ایک خوش حال خاندان، کامیاب ازدواجی زندگی یا بظاہر باوقار گھرانے کی خوبصورت تصویر کے پیچھے کوئی عورت جذباتی اذیت، تذلیل، تنہائی یا دوسروں کی خاطر مسلسل خاموش رہنے کے دباؤ سے نبردآزما ہوسکتی ہے۔
ہر زخم دکھائی نہیں دیتا، ہر ناانصافی اخبارات کی سرخی نہیں بنتی اور ہر عورت کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بولنے کی آزادی یا حمایت حاصل نہیں ہوتی۔
اس حقیقت کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اکثر عورت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس طرح کی تکلیف کو اپنی ذمہ داریوں کا لازمی حصہ سمجھ کر قبول کرلے۔ خاموش رہنے والی عورت کو صابر اور برداشت کرنے والی کہا جاتا ہے، لیکن غیر منصفانہ سلوک پر سوال اٹھانے والی عورت پر خاندان کا سکون برباد کرنے کا الزام لگادیا جاتا ہے۔ احترام کا مطالبہ کرنے والی عورت کو بعض اوقات باغی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ صرف اسی عزت اور وقار کی طلب گار ہوتی ہے جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
عورت کو ہر بار اپنی برابری ثابت کیوں کرنا پڑتی ہے؟
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ عورت سے آج بھی اس کی قدر و منزلت ثابت کرنے کے لیے قربانیوں کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اسے بار بار اپنی تعلیم، ملازمت، مالی خودمختاری اور خاندانی فیصلوں میں شرکت کے حق کا دفاع کیوں کرنا پڑتا ہے؟ شوہر کی رائے کو خودبخود بیوی کی رائے سے زیادہ اہمیت کیوں حاصل ہونی چاہیے؟ اور عورت کی مساوات کی خواہش کو خاندانی اقدار کے لیے خطرہ کیوں سمجھ لیا جاتا ہے؟
مساوات خاندان کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ بے عزتی، تحقیر اور ناانصافی خاندان کی بنیادیں کھوکھلی کرتی ہیں۔ باہمی سمجھ بوجھ، مشترکہ ذمہ داری اور مساوی انسانی وقار پر قائم ازدواجی رشتہ اس رشتے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے جسے خوف، خاموشی یا کسی ایک فرد کے غیر مشروط اختیار کے سہارے برقرار رکھا جائے۔
خواتین مردوں کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہیں، بلکہ وہ اس ذہنیت کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں جو انہیں اپنے ہی گھروں اور معاشرے میں دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے، ان کی رائے کا احترام ہو اور ان کے انتخاب کو اہمیت دی جائے۔ وہ اپنی زندگی اور مستقبل پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں برابر کی حیثیت چاہتی ہیں۔
یہ کوئی غیر معقول یا غیر ضروری مطالبات نہیں، بلکہ ایک منصفانہ معاشرے کی بنیادی شرائط ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کی توہین اور اختلافِ رائے کی حدود
صفدر کے بیانات سے پیدا ہونے والا تنازع مرحومہ انسانی حقوق کی ممتاز وکیل عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ان سے منسوب توہین آمیز تبصروں تک بھی پھیل گیا۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کے خلاف استعمال کی گئی تحقیر آمیز زبان کی سخت مذمت کی اور عوامی مکالمے میں وقار، برداشت اور احترام کی اہمیت اجاگر کی۔
عاصمہ جہانگیر نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ انسانی حقوق، آئینی آزادیوں اور ان افراد کے دفاع کے لیے وقف کیا جن کے پاس اپنے تحفظ کے لیے اثر و رسوخ یا طاقت موجود نہیں تھی۔ ان کے خیالات اور مؤقف سے اتفاق یا اختلاف کیا جاسکتا ہے، اور ہر شخص کو اس کا حق حاصل ہے، لیکن کسی وفات پا جانے والی خاتون پر ذاتی حملے کرنا، بالخصوص اس کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر اسے نشانہ بنانا، ایک مہذب اور باوقار معاشرے میں کسی طور قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
وکلاء کی ان نمائندہ تنظیموں کی مذمت ایک اہم یاد دہانی ہے کہ اختلافِ رائے کو کبھی تذلیل، کردار کشی یا عدم برداشت کا جواز نہیں بننے دینا چاہیے۔
یہاں ایک وسیع تر مسئلہ بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ جو خواتین رائج سماجی رویوں اور قائم شدہ تصورات کو چیلنج کرتی ہیں، انہیں اکثر ایسی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ان کے خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کے کردار، نجی زندگی اور عقائد کو ہدف بناتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے دوسری خواتین بھی بولنے سے ہچکچاتی ہیں اور وہی عدم مساوات مزید مضبوط ہوتی ہے جس کے خاتمے کے دعوے ہمارا معاشرہ کرتا ہے۔
چند نمایاں خواتین کی کامیابی پوری تصویر نہیں
پاکستان نے سیاست، قانون، تعلیم، طب، صحافت، کاروبار اور سماجی خدمت کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل خواتین پیدا کی ہیں، لیکن چند نمایاں اور بااثر خواتین کی کامیابیوں کو دیکھ کر ہمیں ان بے شمار دوسری خواتین کی مشکلات سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں جو روزانہ ناانصافی اور عدم مساوات کا سامنا کرتی ہیں۔
فیکٹری میں کام کرنے والی عورت، اسکول میں پڑھانے والی معلمہ، گھر سنبھالنے والی خاتون یا بچوں کی پرورش کرنے والی ماں، سب اسی احترام کی مستحق ہیں جس کا حق کسی عوامی عہدے پر فائز خاتون کو حاصل ہے۔ عورت کی عزت کا تعین اس کے سماجی مرتبے، دولت، تعلیم یا خاندانی پس منظر سے نہیں ہونا چاہیے۔
معاشی طور پر دوسروں پر انحصار کرنے والی خواتین کے لیے یہ جدوجہد مزید دشوار ہوتی ہے۔ بہت سی خواتین اس خوف سے غیر منصفانہ سلوک برداشت کرتی رہتی ہیں کہ کہیں ان کی مالی سلامتی، خاندان کی حمایت یا بچوں کی سرپرستی کا حق ان سے چھین نہ لیا جائے۔ بعض دوسری خواتین اس لیے خاموش رہتی ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ آواز اٹھانے پر انصاف ملنے کے بجائے انہیں معاشرتی مذمت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ہم خواتین کی ہمت، برداشت اور ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے ان حالات کو مزید نظرانداز نہیں کرسکتے جو انہیں ہر وقت ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
مردوں کی ذمہ داری:احترام تقریروں سے نہیں، عمل سے
مردوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے رویوں اور سوچ کا جائزہ لیں۔ خواتین کا احترام صرف عالمی یومِ خواتین کے موقع پر تقریروں یا ماں اور بیٹی کی عظمت کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا عملی مظاہرہ روزمرہ زندگی میں ہونا ضروری ہے۔
وہ باپ جو اپنی بیٹی کو خواب پورے کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، وہ شوہر جو اپنی بیوی کو برابر کا شریکِ حیات سمجھتا ہے، وہ بھائی جو اپنی بہن کے انتخاب کا احترام کرتا ہے اور وہ بیٹا جو اپنی ماں کو محض ایک رشتے کے بجائے اپنی الگ شخصیت اور خواہشات رکھنے والی انسان سمجھتا ہے، یہ سب ایک زیادہ منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔
مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، پالیسی سازوں اور سماجی نمائندوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ان کے الفاظ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو مضبوط بھی کرسکتے ہیں اور انہیں ختم کرنے میں مددگار بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص عوامی شخصیات کو اپنے بیانات کے اثرات کا ادراک ہونا چاہیے اور خواتین کے حقوق، بیماری اور شخصی وقار جیسے حساس موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہمدردی سے آگے بڑھ کر عملی تبدیلی کی ضرورت
مریم نواز کے عورت کے ان دکھوں اور زخموں سے متعلق الفاظ محض سوشل میڈیا پر ایک عارضی بحث بن کر نہیں رہ جانے چاہئیں۔ انہیں پاکستان میں خواتین کو درپیش جذباتی، سماجی اور معاشی دباؤ کے بارے میں ایک سنجیدہ اور بامعنی مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے۔
پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے مریم نواز ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جہاں خواتین کے وقار اور حقوق سے متعلق تشویش کو ادارہ جاتی تبدیلی میں بھی ڈھالا جاسکتا ہے۔ گھریلو تشدد اور ہراسانی کے خلاف مؤثر تحفظ، انصاف تک بہتر رسائی، تعلیم اور معاشی مواقع میں مساوات اور خواتین کو حاصل قانونی حقوق پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہیں۔
تاہم صرف قوانین کسی معاشرے کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ حقیقی تبدیلی ہمارے گھروں میں بھی آنا ضروری ہے، کیونکہ بچوں کو مساوات، احترام اور انسانی وقار کے ابتدائی اسباق وہیں سے ملتے ہیں۔
ہمیں ایسے بیٹے پروان چڑھانے ہوں گے جو یہ سمجھیں کہ مردانگی اور طاقت کا پیمانہ خواتین پر اختیار جتانا نہیں، اور ایسی بیٹیوں کی تربیت کرنا ہوگی جو اپنے وجود، آواز اور رائے کی اہمیت سے واقف ہوں۔ ہمیں خواتین کو یہ سکھانا بند کرنا ہوگا کہ خاموشی ہر حال میں خوبی ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا بذاتِ خود ایک بہادری کا عمل ہے۔
عورت کا وقار کبھی اس بات سے مشروط نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کتنی تکلیف برداشت کرسکتی ہے۔ اس کی قدر و منزلت اس پیمانے سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ وہ دوسروں کی خوشی کے لیے کتنی مرتبہ اپنی خوشیاں قربان کرتی ہے۔ مساوات کا حق حاصل کرنے کے لیے اسے ان لوگوں کی منظوری کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے جو پہلے سے موجود طاقت کے غیر مساوی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
عورت کی خاموشی نہیں، اس کی آواز معاشرے کا مستقبل ہے
خواتین کی خاموش جنگیں محض ان کے نجی مسائل نہیں، بلکہ یہ اس وسیع تر معاشرتی ناکامی کی عکاس ہیں جس کے باعث عورت کو اپنے حقوق، عزائم، جذبات اور اپنی الگ شناخت رکھنے والی ایک مکمل اور مساوی انسان کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
کوئی معاشرہ اس وقت تک حقیقی ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کی نصف آبادی اس احترام کے حصول کے لیے جدوجہد کرتی رہے جو اسے فطری طور پر ملنا چاہیے۔ ہم خواتین کی عزت اور عظمت کے دعوے بھی نہیں کرسکتے اور ساتھ ہی ان کی آوازوں کو مسترد کرکے ان کے دکھوں سے آنکھیں بھی نہیں چرا سکتے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم محض ہمدردی کے اظہار سے آگے بڑھ کر حقیقی مساوات کی جانب قدم اٹھائیں۔ خواتین کو ہر وقت ان کی ہمت اور برداشت کی یاد دہانی کرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جو انہیں ہر روز اپنے وقار اور حقوق کے لیے لڑنے پر مجبور نہ کرے۔
ان کی آواز سنی جانی چاہیے، ان کے انتخاب کا احترام ہونا چاہیے اور ان کا وقار کبھی قابلِ سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
اور شاید جس دن ہم عورت کو حقیقی معنوں میں ایک برابر انسان سمجھ کر اس کا احترام کرنا شروع کردیں گے، وہی دن ہوگا جب اسے اپنی بیشتر جنگیں خاموشی سے لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
