• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » پاکستان اور کویت کے درمیان توسیعی دفاعی معاہدے پر ابتدائی مذاکرات، توانائی تعاون بھی زیر غور
خبر

پاکستان اور کویت کے درمیان توسیعی دفاعی معاہدے پر ابتدائی مذاکرات، توانائی تعاون بھی زیر غور

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

اسلام آباد⁦:⁩پاکستان اور کویت کے درمیان ایک ممکنہ توسیعی دفاعی معاہدے پر ابتدائی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں دفاعی تعاون کے ساتھ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

مذاکرات سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں توسیع خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور خطے میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ نے پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کویت، پاکستان کے ساتھ⁦2023⁩سے جاری محدود دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ اس تعاون میں تربیتی مشقوں کے علاوہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، مشترکہ مشقیں اور دفاعی سازوسامان سے متعلق تعاون شامل ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت پاکستان سے سعودی عرب کے ساتھ موجود دفاعی تعاون کی طرز پر وسیع تر شراکت داری کا خواہاں ہے، جس میں فوجی تربیت، فضائی دفاع، ڈرون اور دیگر دفاعی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔

تاہم ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر پاکستانی لڑاکا فوجیوں کی تعیناتی زیر غور نہیں اور نہ ہی ایسی کسی تجویز پر اتفاق ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی خریداری سمیت مختلف شعبوں میں بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کا نتیجہ مکمل دفاعی معاہدے کی صورت میں نکلے گا۔

دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی کا شعبہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کویت کے ساتھ تیل اور ایندھن کے ذخائر بڑھانے اور توانائی کے تحفظ کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ایندھن کی بانڈڈ ذخیرہ گاہ کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرکاری سطح کے ڈیزل سپلائی معاہدے کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، جبکہ کویت پاکستان کو ایک قابل اعتماد دفاعی شراکت دار تصور کرتا ہے، جس کی بڑی فوج، دفاعی صنعت اور خطے میں دیرینہ عسکری تعاون اسے اہم حیثیت دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ترکی، پاکستان اور سعودی عرب بھی ایک علیحدہ سہ فریقی دفاعی تعاون کے مسودے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ بحرین نے بھی اسی نوعیت کے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مزید برآں اردن کی جانب سے دفاعی سازوسامان اور تربیتی تعاون کے امکانات پر بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔

دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے معاہدے پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع پیدا کر سکتے ہیں، تاہم اسلام آباد کو کسی بھی نئے دفاعی انتظام میں شامل ہونے سے قبل علاقائی توازن، سفارتی ذمہ داریوں اور ممکنہ خطرات کا محتاط جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستقبل میں غیر ضروری علاقائی تنازعات کا حصہ بننے سے بچا جا سکے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleسیکریٹری جنرل جی سی سی⁦:⁩ایران کے شہری تنصیبات پر حملے ’جنگی جرائم‘ ہیں
Next Article لبنان اور اسرائیل کے فریم ورک معاہدے پر پیش رفت، صدر جوزف عون اور مارکو روبیو میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا پر اتفاق
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

میک گرک⁦:⁩یرغمالی بحران نے غزہ جنگ کے ہر فیصلے کو متاثر کیا

اکتوبر 6, 2026
امریکہ

لیویٹ کی ڈیموکریٹس پر شدید تنقید، ’’تباہ کن سوشلسٹ‘‘ قرار دے دیا

اگست 11, 2026
امریکہ

ٹام کاٹن نے عبدالالسید کو ’’حقیقی انتہا پسند‘‘ قرار دے دیا

اگست 11, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.