میک گرک:یرغمالی بحران نے غزہ جنگ کے ہر فیصلے کو متاثر کیا
بائیڈن انتظامیہ کے سابق اعلیٰ مشیر کی تفصیلی گفتگو میں7اکتوبر، قطر، ایران، سعودی اسرائیل تعلقات اور جنگ بندی مذاکرات کے اندرونی پہلو سامنے آگئے
امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں مشرق وسطیٰ کے لیے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین مشیروں میں شامل رہنے والے بریٹ میک گرک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران یرغمالیوں کا بحران نہ صرف جنگ بندی کے امکانات کا مرکزی مسئلہ تھا بلکہ غزہ میں فوجی کارروائی، سفارت کاری اور پورے خطے میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی امریکی کوششوں پر بھی اس کا گہرا اثر پڑا۔
مارگریٹ برینن کے ساتھ تفصیلی گفتگو میں میک گرک نے بائیڈن انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کے کئی ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جن میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ معمول کے تعلقات،7اکتوبر2023کے حماس حملے سے قبل انٹیلی جنس کے خلا، قطر کا حماس کے ساتھ رابطے میں ثالث کے طور پر کردار، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مشکل مذاکرات، ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے حملے اور وسیع تر علاقائی جنگ کے خطرے کو شامل کیا گیا۔
بریٹ میک گرک کا مارگریٹ برینن کے ساتھ تفصیلی انٹرویو
7 اکتوبر سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے قریب آتے تعلقات
میک گرک کے مطابق7اکتوبر کے حملے سے چند گھنٹے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت کے امکانات غیر معمولی حد تک قریب پہنچ چکے تھے۔ سعودی حکام کی جانب سے فلسطینی علاقوں کے ساتھ رابطے اور ممکنہ امن عمل کے لیے بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی علامت تھیں کہ ایک ایسا سفارتی راستہ تشکیل پا رہا تھا جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب بھی پیش رفت شامل ہو سکتی تھی۔
میک گرک کے مطابق حماس کی جانب سے7اکتوبر کا مربوط حملہ اسی ابھرتے ہوئے سفارتی عمل کو پٹری سے اتارنے کی کوشش بھی ہو سکتا تھا، کیونکہ سعودی اسرائیل معمول کے تعلقات کا عمل خطے کے سیاسی منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی انتظامیہ کو سعودی عرب کے ساتھ اس عمل میں مزید جلدی کرنی چاہیے تھی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تاخیر کی قیمت بعض اوقات بہت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں اور بیرونی واقعات سفارتی مواقع کو ختم کر سکتے ہیں۔
7 اکتوبر اور انٹیلی جنس کی ناکامی
7 اکتوبر کے حملے کے حوالے سے میک گرک نے کہا کہ امریکا کے پاس ایسے واضح اور قابل عمل انٹیلی جنس انتباہات موجود نہیں تھے جن سے اس پیمانے کے حملے کی پیشگی نشاندہی ہو سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نظام میں بھی ان اشاروں کو سمجھنے اور ان سے درست نتیجہ اخذ کرنے میں سنگین ناکامی ہوئی۔
ان کے مطابق اسرائیل کو ایک ایسی جامع تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنی چاہیے جو امریکی9/11کمیشن کی طرز پر اس بات کا جائزہ لے کہ کون سے اشارے نظر انداز ہوئے، ادارہ جاتی سطح پر کہاں غلطیاں ہوئیں اور مستقبل میں ایسی انٹیلی جنس ناکامی سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
میک گرک نے واضح کیا کہ خطے سے آنے والی بعض اطلاعات میں حماس کی ممکنہ نقل و حرکت کے اشارے ضرور موجود تھے، لیکن امریکی حکام کے پاس حملے کے بارے میں براہ راست اور واضح انتباہ موجود نہیں تھا۔
قطر:مشکل مگر ناگزیر ثالث
میک گرک نے قطر کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے ساتھ رابطے کے لیے قطر کا چینل بحران کے دوران ناگزیر ثابت ہوا۔ قطر حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کرتا تھا اور اسی وجہ سے بعض اسرائیلی سیاست دان اسے مخالف فریق کے طور پر دیکھتے تھے، لیکن عملی طور پر یہی رابطے یرغمالیوں کے مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں میں اہم ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بحران کے دوران امریکا ایک طرف یرغمالیوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہا تھا اور دوسری طرف پورے خطے میں وسیع تر جنگ کو روکنے کی کوشش بھی جاری تھی، اور قطر کے بغیر ایسے کئی اہم رابطے قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا جن کے ذریعے صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکا گیا۔
میک گرک کے مطابق، قطر کے ذریعے قائم رابطوں نے یرغمالیوں کے مذاکرات اور علاقائی بحران کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یرغمالی مذاکرات:سمجھوتے کی گنجائش انتہائی محدود
میک گرک کے مطابق اسرائیل اور حماس کے بنیادی مطالبات ایک دوسرے سے تقریباً ناقابل مصالحت تھے۔ حماس کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ وہ غزہ میں اقتدار میں برقرار رہے، فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور اس کے بدلے یرغمالیوں کو چھوڑا جائے، جبکہ اسرائیل کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ حماس غزہ میں دوبارہ کبھی اقتدار میں نہ آئے۔
ان کے مطابق یہی تضاد جنگ بندی کے لیے ممکنہ سمجھوتے کی گنجائش کو انتہائی محدود کر دیتا تھا، لیکن یرغمالیوں کا مسئلہ اس پورے معاملے کا مرکزی نقطہ تھا کیونکہ ان کی رہائی کے بغیر جنگ کا حقیقی خاتمہ ممکن نہیں تھا۔
میک گرک نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے میں ایک بنیادی اخلاقی مسئلہ بھی موجود تھا:حکومتیں اپنے شہریوں اور یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے کتنی قیمت ادا کریں اور وہ قیمت اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ مستقبل میں مزید یرغمال بنانے کی حوصلہ افزائی ہو یا اگلی جنگ کی بنیاد رکھ دی جائے۔
یرغمالی بحران کا بنیادی تضاد
ایک طرف حکومت پر یرغمالیوں کو ہر قیمت پر واپس لانے کا دباؤ تھا، جبکہ دوسری طرف بہت بڑی رعایتیں دینے سے مستقبل میں مزید یرغمال بنانے کی ترغیب پیدا ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ میک گرک کے مطابق یہی کشمکش مذاکرات کی ہر سطح پر موجود رہی۔
نومبر کی جنگ بندی اور خواتین یرغمالیوں کا معاملہ
نومبر میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والی عارضی جنگ بندی اس وقت مشکلات کا شکار ہوئی جب حماس نے کم عمر خواتین یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا۔ میک گرک کے مطابق حماس نے بعض خواتین کو فوجی عمر کی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی سے گریز کیا، جس سے مذاکرات کی سختی اور یرغمالیوں کو سیاسی و فوجی دباؤ کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیے جانے کی حقیقت مزید نمایاں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ بعد کے مذاکرات میں امریکا اور اسرائیل کے سامنے یہ مشکل بھی تھی کہ حماس مکمل فہرست فراہم کرنے پر تیار نہیں تھی۔ بعض یرغمالیوں کو زخمی یا زندہ شمار کرنے سے متعلق اختلافات نے معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا، جبکہ آخرکار زندہ یرغمالیوں کی مکمل فہرست سامنے آنے میں کئی ماہ لگ گئے۔
میک گرک کے مطابق2024کے آخر میں بھی جنگ ختم کرنے کا راستہ بظاہر بہت قریب تھا، لیکن یرغمالیوں کی فہرست، ان کی حالت اور رہائی کی ترتیب جیسے مسائل ہر بار آخری مرحلے پر مذاکرات کو روک دیتے تھے۔
بائیڈن اور ٹرمپ ٹیم کے درمیان غیر معمولی تعاون
میک گرک نے بتایا کہ نومبر2024کے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد بائیڈن انتظامیہ اور آنے والی ٹرمپ ٹیم نے غزہ میں یرغمالیوں کے مسئلے پر ایک غیر معمولی تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جیرڈ کشنر سے رابطہ کرکے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے یرغمالیوں کا مسئلہ حل کرنے کا ایک موقع موجود ہے۔
ان کے مطابق بائیڈن اور ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران بھی دونوں نے اس معاملے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ میک گرک اور جیک سلیوان نے آنے والی انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ بھی رابطہ برقرار رکھا۔ اس کے بعد اسٹیو وٹکوف اور میک گرک نے بھی مذاکرات میں قریب سے مل کر کام کیا۔
میک گرک نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان اس معاملے میں کوئی نمایاں اختلاف نہیں رکھا گیا اور مشترکہ کوششوں نے بالآخر جنوری2025میں یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں مدد کی۔
ایران، حزب اللہ اور وسیع تر جنگ کا خطرہ
میک گرک کے مطابق غزہ جنگ کو صرف غزہ تک محدود سمجھنا درست نہیں تھا، کیونکہ اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر حملے، حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی اور امریکی و برطانوی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اور عراق میں امریکی اہلکاروں پر ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے حملے مسلسل جاری تھے۔
ان کے مطابق ان حملوں کو روکنا یرغمالیوں کے مذاکرات کے لیے بھی ضروری تھا کیونکہ حماس کو اس وقت تک سمجھوتے کی جانب لانا مشکل تھا جب اسے یہ محسوس ہو کہ علاقائی محاذ اس کے حق میں جا رہے ہیں۔ میک گرک نے کہا کہ اسی وجہ سے ان کے لیے ایک عرصے تک سب سے اہم ترجیح ایرانی حمایت یافتہ حملوں کو روکنا اور طاقت کے ذریعے مزاحمت پیدا کرنا تھی۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری اگر طاقت کے مؤثر استعمال کی پشت پناہی سے محروم ہو تو بے اثر ہو سکتی ہے، اور بائیڈن انتظامیہ نے اسی لیے بعض مواقع پر امریکی فوجی طاقت استعمال کی تاکہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکی اور اتحادی اہلکاروں پر مسلسل حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر واشنگٹن کے تحفظات
انٹرویو میں اسرائیل کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں شام میں ایرانی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانا، تہران میں حماس کے ایک اعلیٰ رہنما کی ہلاکت اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں شامل تھیں۔
میک گرک نے کہا کہ امریکا کو بعض اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم انہوں نے بعض کارروائیوں کو اسرائیل کے لیے جائز دفاعی اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے مسلسل حملوں کے ماحول میں اسرائیل اور امریکا کے درمیان خطرات کے اندازے اور جوابی کارروائی کے طریقہ کار پر اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کارروائیوں نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کے مسائل کو بھی اجاگر کیا، تاہم بعض صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی سفارتی گنجائش بھی پیدا ہوئی۔
بائیڈن کی اسرائیل کے لیے اسلحہ پالیسی
میک گرک نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی فراہمی عارضی طور پر روکنے یا مؤخر کرنے کے فیصلوں کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھاری وزن کے بعض بموں کی ترسیل روکی گئی، جبکہ کچھ دیگر ہتھیاروں کی فروخت اور فراہمی کے بارے میں بھی محدود اقدامات کیے گئے۔
تاہم ان کے مطابق انتظامیہ کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کسی بھی پالیسی اقدام سے کیا غزہ میں انسانیsufferingکم ہوگی اور کیا اس سے جنگ کے خاتمے کے امکانات بڑھیں گے۔ میک گرک نے کہا کہ ان کے نزدیک یہی اصل امتحان تھا، کیونکہ محض عوامی دباؤ ہمیشہ جنگ کے خاتمے کا باعث نہیں بنتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنی ایک بڑی دفاعی صنعت رکھتا ہے، اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ امریکا کی جانب سے کسی ایک ہتھیار کی فراہمی روک دینے سے لازماً جنگ رک جاتی۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور معمول کے تعلقات کی کوشش
میک گرک نے بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابتدا میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں وہ رفتار نہیں دکھائی جو بعد میں ضروری ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ رابطے میں تاخیر ایک ایسی بات ہے جس پر وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ امریکا کو پہلے اقدام کرنا چاہیے تھا۔
بعد میں توانائی کے عالمی بحران، روس کی جانب سے یوکرین پر حملے اور سعودی عرب کی عالمی توانائی مارکیٹ میں اہم حیثیت نے واشنگٹن اور ریاض کو دوبارہ قریب آنے پر مجبور کیا۔ اسی عمل کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ معمول کے تعلقات کے لیے ایک وسیع سفارتی خاکہ تشکیل پانے لگا۔
میک گرک کے مطابق سعودی قیادت نے امریکا سے اس معاملے میں تعاون طلب کیا تھا اور اسرائیل نے بھی واشنگٹن کو اس عمل میں شامل ہونے کے لیے کہا تھا، جس کے نتیجے میں ایسے مرحلہ وار اقدامات کیے گئے جو بالآخر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن سکتے تھے۔
بحران کا ذاتی اثر
گفتگو کے سب سے جذباتی حصوں میں میک گرک نے بحران سے نمٹنے والے حکام اور مذاکرات کاروں پر پڑنے والے ذاتی اثرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے یرغمالیوں، خصوصاً بچوں کے بارے میں آنے والی اطلاعات اور ان کے خاندانوں کی حالت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران سے نمٹنا محض ایک سفارتی یا سکیورٹی ذمہ داری نہیں تھا بلکہ اس نے ان افراد کی ذاتی زندگیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا جو ہر روز ان مذاکرات میں شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کے بارے میں آنے والے مناظر اور کہانیاں ان کے ذہن سے نہیں نکلتی تھیں اور بعض واقعات نے انہیں ذاتی طور پر اس قدر متاثر کیا کہ اس بحران کو ایک ایسے تجربے کے طور پر محسوس کیا جس نے “روح پر زخم” چھوڑ دیا۔
میک گرک کے مطابق مشرق وسطیٰ کا یہ بحران صرف فوجی طاقت، سفارت کاری یا سیاسی مفادات کی کہانی نہیں بلکہ ان حقیقی انسانوں کی بھی داستان ہے جن کی زندگیاں جنگ، یرغمالی بنانے، نقل مکانی اور مسلسل خوف سے متاثر ہوئیں۔
مجموعی تصویر
بریٹ میک گرک کی گفتگو بائیڈن دور کے مشرق وسطیٰ بحران کو ایک ایسے پیچیدہ سلسلے کے طور پر پیش کرتی ہے جس میں7اکتوبر کا حملہ، اسرائیل اور حماس کی مختلف جنگی ترجیحات، یرغمالیوں کے مذاکرات، قطر کی ثالثی، ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی، سعودی اسرائیل تعلقات اور وسیع تر علاقائی جنگ کا خطرہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کی ہر کوشش اسی وقت ممکن تھی جب ان تمام محاذوں پر طاقت، سفارت کاری اور انسانی تحفظ کے درمیان ایک قابل عمل توازن پیدا کیا جا سکے۔

