”
گیان، دھیان اور بھنگ

ایسی یونیورسٹیاں پاکستان کے دو قومی نظریے، عرف دو سطری نظریۂ پاکستان، اور نصب العین سے پوری مناسبت رکھتی ہیں۔ ملک کے ہر کونے میں ایسی یونیورسٹیاں قائم ہونی چاہئیں تاکہ روحانیت کو ترقی دی جا سکے۔ داتا صاحب اور شاہ حسین وغیرہ اور سخی لال شہباز اور سخی سرور کے مزاروں پر جھومتے ہوئے گریجویٹس تو پہلے ہی موجود ہیں۔
اس ساری ذہنیت میں کوئی بات نئی یا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ تاریخ میں بہت بار ایسا ہوتا آیا ہے۔ بہت سی اقوام کے طویل زوال کا مطالعہ کریں تو آپ کو بڑی اپنائیت سی محسوس ہو گی۔ تو ہم کوئی انوکھے ہیں کہ اُس مرحلے کو چھلانگ مار کر پار جا بیٹھیں؟ جو ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے، انحطاط زدہ معاشروں میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔
جو ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے، انحطاط زدہ معاشروں میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔
یونیورسٹی میں ایک سٹوڈنٹ ویلفیئر کا آفس بھی ہے۔ یقیناً یہاں بھنگ والے پاپڑ اور گھنگرو پہن کر دھمال ڈالنا تجویز نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہ ماڈرن سائنسز کو انگلی کرنا ایک خالص ہوموپاکیئن اور ہوموانڈین حرکت ہے۔ اس کا مزہ لینا چاہیے۔
اس یونیورسٹی کی تین فیکلٹیز ہیں:بزنس ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن لٹریسی اینڈ لینگوئج، اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی۔ زیادہ ڈرنا نہیں چاہیے، یہ یونیورسٹی صرف سائنس کے ساتھ ہی نہیں بلکہ تصوف کے ساتھ بھی دھوکا ہے۔
مشن سٹیٹمنٹ یا نصب العین والے حصے کے پہلے جزو میں لکھا ہے:
’’سائنسی علم کو روایتی دانش کے ملا کر جدید دور کے پیچیدہ مسائل حل کرنا۔‘‘
کون سا جدید دور، اور کون سے پیچیدہ ایشوز؟ منگھوپیر کے مگرمچھوں کے اعضائے تناسل پر تحقیق سے نام نہاد جدید دور کی کیا سمجھ آئے گی؟
مشن کا دوسرا حصہ یہ ہے:
’’جدید تعلیم میں صوفی ازم کو سمو کر ہم آہنگی، امن اور رواداری کو فروغ دینا تاکہ ذاتی اور سماجی قلبِ ماہئیت ہو۔‘‘
معاشرے میں موجود فرقوں اور ٹوپیوں کے رنگوں کی تعداد گن سکتا ہے کوئی؟ اگر رواداری اور ہم آہنگی ہی پیدا کرنی ہے تو پھر اتنے فرقوں کا کیا فائدہ؟ اور اگر فرقے موجود ہیں تو پھر ہم آہنگی جیسی فضول چیز کی کیا ضرورت؟
لاہور میں شاذلی انسٹی ٹیوٹ آف صوفی ازم مہاتما نے قائم کیا تھا۔ تسبیح تقریباً سبھی قابلِ ذکر سیاسی ’’قائدین‘‘ کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور یہ جدید دور کے مسائل حل کرنے چلے ہیں؟
باقی تمام تعلیمی ادارے ایسی کون سی جہالت نہیں پھیلا رہے تھے کہ ایسے خصوصی اقدامات کی ضرورت سمجھی گئی؟
گیان دئیں دھیان دئیں مہا سادھو سنگ دا
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

