سقوطِ ڈھاکہ سے ایک دن پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں یادگار تقریر
16 دسمبر1971کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔
یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور المناک موڑ تھا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں شدید فوجی کارروائیاں، سیاسی بحران، جنگ اور انسانی المیے جاری تھے، جبکہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ ایک بڑی جنگ کا بھی سامنا تھا۔
سقوطِ ڈھاکہ سے ایک دن قبل،15دسمبر1971کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس وقت کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک انتہائی جذباتی تقریر کی۔
انہوں نے عالمی طاقتوں اور سلامتی کونسل پر پاکستان کے ساتھ جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک خودمختار ریاست کی تباہی دیکھ رہی ہے، مگر عالمی ادارے مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی مصلحتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔
اپنی تقریر کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا:
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک خودمختار ریاست کی تباہی دیکھ رہی ہے جبکہ سلامتی کونسل کارروائی کے معمولی نکات پر بحث میں وقت ضائع کر رہی ہے۔
بھٹو کے مطابق یہ تاخیر پاکستان کی عسکری پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں تحفظ اور انصاف کی امید لے کر آیا تھا، مگر اسے سیاست، منافقت اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔
بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے ایک انتہائی جذباتی انداز میں کہا:
اپنی تقریر کے دوران بھٹو نے ایک ذاتی واقعہ بھی بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی صبح ان کے گیارہ سالہ بیٹے نے انہیں فون کیا تھا۔
بھٹو نے کہا کہ یہ الفاظ ان کے دل میں گونج رہے ہیں اور پاکستان ہتھیار ڈالنے کے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غیر جانبدار نہیں رہا۔
ان کے مطابق طاقتور ممالک کے اثر و رسوخ کے باعث پاکستان کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرے گا۔
بھٹو کے مطابق مجوزہ قرارداد بھارتی جارحیت کو نظر انداز کرتی ہے اور پاکستان کو سزا دیتی ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر ذوالفقار علی بھٹو نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے سامنے موجود کاغذات پھاڑ دیے اور انہیں میز پر پھینک دیا۔
اس کے بعد بھٹو سلامتی کونسل کے اجلاس سے باہر نکل گئے۔
اس تقریر کے اگلے ہی روز،16دسمبر1971کو مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور سقوطِ ڈھاکہ کا واقعہ پیش آیا۔
یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ باب ہے جس کے سیاسی، عسکری اور سماجی اثرات آج بھی زیر بحث ہیں۔

