آزادی کی کہانی یا تقسیم کا المیہ؟ برصغیر کی آزادی کے اصل محرکات پر ایک نظر
ذرا اپنے دماغوں کی بتی جلائیں اور غور کریں۔
کیا ایسی وجہ تھی کہ برطانیہ بھارت چھوڑ گیا؟
اور کیا صرف اس نے بھارت کو ہی آزاد کیا تھا؟
جنگ عظیم دوم کے بعد1947سے لے کر1970تک50ممالک کو آزادی حاصل ہوئی، اور یہ50ممالک برطانیہ کی کالونیوں میں شامل تھے۔ ان میں سے90سے95فیصد ممالک میں تو کوئی آزادی کی تحریک ہی نہیں چل رہی تھی، تو پھر بغیر کسی قسم کی تحریک کے دباؤ کے برطانیہ نے ان ممالک کو کیسے آزاد کر دیا؟
ان50ممالک کی آزادی کا اصل بانی کون تھا؟
تو شروعات ہوتی ہے جنگ عظیم دوم سے، اور اس کے مرکزی کردار ایڈولف ہٹلر سے۔
ہٹلر جو کہ جرمنی کا چانسلر تھا، اس نے جنگ عظیم دوم کی شروعات کی۔ وجہ یہ تھی کہ ہٹلر جنگ عظیم اول میں ہوئے ہتک آمیز معاہدے کا بدلہ لینا چاہ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ قریبی علاقے جو جرمنی سے چھینے گئے تھے، سزا کے طور پر وہ فوجی قوت سے حاصل کیے، اور پھر اپنے سے بڑی اور تگڑی فوج، جو کہ فرانس کی تھی، اس کو ہرایا۔
اور اس کے بعد اٹیک کیا برطانیہ کے شہر لندن پر، آدھا لندن ملیا میٹ کر دیا۔
برطانیہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دے پائے۔ وہ تنخواہیں ادا کیں امریکہ نے۔ روزویلٹ جو امریکی صدر تھے، وہ برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل کو ایک خط لکھتے ہیں:
”ہم چاہتے ہیں ہمارا ساتھی اپنی کالونیاں آزاد کر دے تاکہ اس سلطنت پر سے معاشی بوجھ کم ہو۔“
اس کے بعد آہستہ آہستہ آزادیوں کا سلسلہ شروع ہوا، ورنہ کیا آپ کے سیاستدان اتنے مدبر اور پریشر بلڈ کرنے والے تھے؟
آل انڈیا مسلم لیگ کی اکثریت تو اپنی جاگیروں کا تحفظ چاہتے تھے، کیونکہ کانگریس نے اپنے منشور میں بتایا تھا کہ جناب جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو لینڈ ریفارمز کریں گے۔ تو ان لوگوں نے سوچا کانگریس کی طرف گئے تو زمینیں جائیں گی، لیکن اگر مسلم لیگ کی طرف گئے اور وہ الگ ملک بنانے میں کامیاب ہو گئے تو زمینیں بچ جائیں گی۔
سبط حسن صاحب اپنی کتاب شہر نگاراں میں کہتے ہیں مسلم لیگ تو برائے نام جماعت تھی۔
اور رہی بات کانگریس کی، تو وہ نان وائلنس پالیسی پر یقین رکھتی تھی، جس سے انگریزوں کو بالکل فرق نہیں پڑنے والا تھا۔
آزادی کی روایتی کہانی پر سوال
تو بھئی آپ خود سوچیں کہ ان لوگوں کا کیا کردار تھا آزادی میں؟ کتابی، رٹی رٹائی باتیں کرنا آسان ہے، اور جناح کو مسلمانوں کا واحد نمائندہ مسلم لیڈر بتانا بھی آسان ہے۔
لیکن بتائیں پاکستانیوں کو حقیقت کہ یہ ملک وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے بنایا گیا تھا۔ بتائیں ان کو کہ قائداعظم نے1937کے بعد مذہب کا تڑکا لگایا تھا۔ بتائیں ان کو کہ جناح تو اپنے ذاتی فعل اور پرسنالٹی کے لحاظ سے مکمل طور پر لبرل اور سیکولر بندا تھا۔
آزادی کے جو قصہ کہانیاں ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں کہ گھر بار لٹ گئے، لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، بھئی وہ سب تقسیم کا کیا دھرا تھا۔
پنجاب کو تقسیم کیا گیا، یہاں ہندو، سکھ، مسلمان گروہوں کو انتہا پسند بنایا گیا، Us Vs Them کے حالات سازگار کیے گئے، اور اس کے بعد ہمیں بے دریغ انسانی جانوں کا ضیاع دیکھنے کو ملا۔
ہمارے لوگوں نے آزادی میں جانیں نہیں گنوائیں، بلکہ تقسیم میں گنوائی تھیں۔
پر عام پاکستانی کو واضح فرق بتائیں، ان کو بتائیں کہ یہ50ممالک کی وجہ بننے والا کون تھا؟
علی حیدر
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

