رائے/تجزیہ
پدرشاہی نظام کا شکار ایک اور بیٹی
میرپورخاص میں طلبہ سیاست کی متحرک کارکن سویرا لغاری کے بہیمانہ قتل پر ایک تلخ تجزیہ — عورت دشمن رویوں، ذہنی امراض اور معاشرتی خاموشی کے حوالے سے
سندھ کے ضلع میرپورخاص میں حالیہ دنوں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں نفسیاتی مسائل کا شکار ایک جنونی اور انتہاپسند شخص فیضان راجپوت نے مبینہ طور پر رابطہ برقرار نہ رکھنے اور ان کی مرضی کے مطابق پردہ نہ کرنے پر طلبہ سیاست کی متحرک کارکن24سالہ سویرا لغاری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد اس نے خودکشی کرلی۔
سفاکانہ عمل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں حوا کی بیٹی کو اپنی مرضی کی زندگی جینے کی اتنی بڑا سزا دی گئی ہو، اس پدرشاہی نظام کے باعث نجانے کتنی بیٹیاں ذہنی معذور لوگوں کے باعث گھریلو تشدد، جبری شادی یا پھر نام نہاد غیرت کے نام پر جنونیت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں لیکن ان معاملات کی اصل وجوہات کو جاننے اور اسے سنجیدگی سے حل کرنے میں کسی کی دلچپسی نہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔
ہراسمنٹ سے قتل تک
سویرا لغاری کو قتل کرنے والے سفاک اور مذہبی جنونی قاتل کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ طالبہ کو اسٹڈی سرکل اور قومی سیاسی نظریات سے روکنے کی بات کررہا ہے۔ لڑکی نے جب مذہبی جنونی شخص کی بار بار ہراسمنٹ کا انکار کرکے اپنے فکر کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تو یہ بات اس سفاک قاتل کو گوارا نہیں گزری اور اسے قتل کردیا۔
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں ایک عورت کو بھی اتنی آزادی حاصل ہے جتنی کہ ایک مرد کو، اسے بھی سیاست، سماجی تقریبات میں شرکت کرنے کا مکمل اختیار ہے، ہمیں یہ بالکل بھی حق نہیں کہ کسی کو ذہنی ازیت دیکر اسکی زندگی برباد کریں اور اگر وہ نرغے میں نہ آئے تو اس قتل کردیں۔
آبسیسو لو ڈس آرڈر:نفسیاتی پہلو
ایسے واقعات کے لیے ایک اصطلاح آبسیسو لو ڈس آرڈر (Obsessive Love Disorder) استعمال ہوتی ہے جس سے مراد ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں ایک شخص میں اپنے آپ پر قابو پانے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، وہ محبت کے نام پر دوسرے شخص کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اسکے بارے میں اس قدر شدید اور غیر صحت مند حد تک سوچتا ہے جس سے اسکی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے، کچھ کیسز میں وہ سخت گیر خیالات کے بعد چاہنے والے شخص کو قتل بھی کردیتا ہے۔
🧠 اہم نکتہ
سویرہ لغاری واقعے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور وہ ایک ذہنی مریض شخص کی جنونیت کا شکار ہوئی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ذہنی مسائل یا ان کے طبی علاج کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اکثر لوگ تناؤ، ڈپریشن، انزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کو صحت کا مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔
وہ اپنے سخت گیر رویوں اور ایسے عمل کو مذہبی لبادہ اوڑھا کر دوسروں کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں، سویرا لغاری کا واقعہ ایک ایسی سنگین صورتحال کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ پدرشاہی سماج میں ایک عورت(خواہ وہ ایک ماں کے روپ میں ہوں یا بہن، بیوی اور بیٹی کی شکل میں)کو آزاد فرد کی حیثیت سے قبول کرنے کے بجائے اسے ہمیشہ زمین اور جانوروں کی طرح اپنی ملکیت سمجھا جاتا ہے اس سے بڑھ کر جاہلانہ نظریہ اور کیا ہوگا۔
ایک سوچ کا قتل
جوکہ سویرا لغاری کے ساتھ چل کر ناانصافی پر مبنی عورت دشمن سماج اور رجعت پسندی کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی تھیں اور بدلاؤ لانے کے خواب سینچ رہی تھیں۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ہمیں مجموعی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اختلاف اور انکار کو قبول کرکے ہی ہم معاشرے میں حقیقی تبدیلی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

