تاریخ/یادیں
گاندھی، آخری بھوک ہڑتال اور پاکستان کے55کروڑ روپے کا فیصلہ
پاکستان کے سیاسی مخالف مہاتما گاندھی نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے واجب الادا اثاثوں کی ادائیگی کے لیے اپنی زندگی کی آخری بھوک ہڑتال میں اہم کردار ادا کیا — قتل سے محض12دن پہلے کا واقعہ
گاندھی پاکستان کے قیام کے سیاسی مخالفین میں شامل تھے، لیکن تقسیمِ ہند کے فوراً بعد ان کا ایک ایسا کردار سامنے آیا جسے پاکستان کی تاریخ میں نسبتاً کم یاد کیا جاتا ہے۔ جنوری1948میں مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی کی آخری بھوک ہڑتال کی۔ اس بھوک ہڑتال کے اہم پہلوؤں میں دہلی کے مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ، فرقہ وارانہ امن کی بحالی اور پاکستان کو اس کے واجب الادا55کروڑ روپے کی ادائیگی بھی شامل تھی۔
یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ گاندھی کی زندگی کا آخری سیاسی و اخلاقی احتجاج ایک ایسے ملک کے مالی حق کے لیے بھی تھا جس کے قیام کی سیاسی مخالفت وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک کرتے رہے تھے۔
تقسیم اور اثاثوں کا مسئلہ
1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے وقت اثاثوں اور واجبات کی تقسیم کا ایک پیچیدہ عمل شروع ہوا۔ پاکستان کو مشترکہ ہندوستان کے مالی و دیگر اثاثوں میں سے75کروڑ روپے نقد رقم کی صورت میں ملنے تھے۔ ابتدائی طور پر20کروڑ روپے ادا کر دیے گئے، لیکن باقی55کروڑ روپے روک لیے گئے۔
اسی وجہ سے بھارتی حکومت نے بقیہ رقم روکنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل وقت تھا۔ نئی ریاست ابھی اپنے انتظامی ڈھانچے کو قائم کر رہی تھی، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ درپیش تھا، سرکاری ادارے قائم کیے جا رہے تھے اور مالی وسائل شدید محدود تھے۔ ایسے میں پاکستان کے حصے کی رقم روک لیا جانا ایک سنگین مالی مسئلہ تھا۔
پھر گاندھی میدان میں آئے
جنوری1948میں گاندھی دہلی میں موجود تھے۔ تقسیم کے بعد دہلی میں ہندو، سکھ اور مسلمان آبادی کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ مسلمانوں کے گھروں اور املاک پر قبضے، نقل مکانی، مساجد کے مسائل اور فرقہ وارانہ تشدد نے صورتحال انتہائی خراب کر دی تھی۔
📅 بھوک ہڑتال کا دورانیہ
گاندھی نے اس صورتحال کے خلاف اپنی آخری بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ان کی بھوک ہڑتال12جنوری1948کو شروع ہوئی اور18جنوری کو ختم ہوئی۔ گاندھی کا مقصد صرف حکومتِ ہند پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا بلکہ دہلی میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جس میں مسلمان بھی خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔
ان کے مطالبات اور اصرار میں مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ، مساجد کی واپسی، مسلمانوں کو دہلی میں آزادانہ نقل و حرکت اور فرقہ وارانہ امن کی بحالی جیسے معاملات شامل تھے۔
اسی دوران پاکستان کے55کروڑ روپے کا مسئلہ بھی گاندھی کے سامنے موجود تھا۔
55 کروڑ روپے کا فیصلہ
یہاں اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو سامنے آتا ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کو یہ رقم دینے سے گریز کر رہی تھی۔ لیکن گاندھی نے اس مؤقف کی مخالفت کی۔
یہ بات تاریخی ریکارڈ میں بھی ملتی ہے کہ گاندھی پاکستان کو اس رقم کی ادائیگی کے حق میں تھے اور حکومت پر اس معاملے میں اپنا اثر استعمال کر رہے تھے۔ لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے:گاندھی پاکستان کے سیاسی مخالف تھے، لیکن ان کے نزدیک اگر تقسیم کے معاہدے کے تحت کوئی رقم پاکستان کا قانونی حق بنتی ہے تو اسے روکنا اخلاقی طور پر درست نہیں تھا۔
ان کا اصول یہ تھا کہ ریاستی اختلاف یا دشمنی کسی فریق کے جائز حق کو ختم نہیں کرتی۔
⚱️ انجام
گاندھی نے18جنوری کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کی، اور ٹھیک اس کے12دن بعد،30جنوری1948کو، ناتھورام گوڈسے نے انہیں قتل کر دیا۔
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

