• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کیا جناح کی طرح گاندھی بھی پاکستان کے ہیرو ہیں؟
ایشیا

کیا جناح کی طرح گاندھی بھی پاکستان کے ہیرو ہیں؟

تحریر علی حیدر
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 16, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تاریخ⁦/⁩یادیں

گاندھی، آخری بھوک ہڑتال اور پاکستان کے⁦55⁩کروڑ روپے کا فیصلہ

پاکستان کے سیاسی مخالف مہاتما گاندھی نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے واجب الادا اثاثوں کی ادائیگی کے لیے اپنی زندگی کی آخری بھوک ہڑتال میں اہم کردار ادا کیا — قتل سے محض⁦12⁩دن پہلے کا واقعہ

ع ح
تحریر⁦:⁩علی حیدر
تاریخ نویس⁦/⁩کالم نگار

گاندھی پاکستان کے قیام کے سیاسی مخالفین میں شامل تھے، لیکن تقسیمِ ہند کے فوراً بعد ان کا ایک ایسا کردار سامنے آیا جسے پاکستان کی تاریخ میں نسبتاً کم یاد کیا جاتا ہے۔ جنوری⁦1948⁩میں مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی کی آخری بھوک ہڑتال کی۔ اس بھوک ہڑتال کے اہم پہلوؤں میں دہلی کے مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ، فرقہ وارانہ امن کی بحالی اور پاکستان کو اس کے واجب الادا⁦55⁩کروڑ روپے کی ادائیگی بھی شامل تھی۔

یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ گاندھی کی زندگی کا آخری سیاسی و اخلاقی احتجاج ایک ایسے ملک کے مالی حق کے لیے بھی تھا جس کے قیام کی سیاسی مخالفت وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک کرتے رہے تھے۔


تقسیم اور اثاثوں کا مسئلہ

1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے وقت اثاثوں اور واجبات کی تقسیم کا ایک پیچیدہ عمل شروع ہوا۔ پاکستان کو مشترکہ ہندوستان کے مالی و دیگر اثاثوں میں سے⁦75⁩کروڑ روپے نقد رقم کی صورت میں ملنے تھے۔ ابتدائی طور پر⁦20⁩کروڑ روپے ادا کر دیے گئے، لیکن باقی⁦55⁩کروڑ روپے روک لیے گئے۔

اس کی وجہ صرف مالی حساب کتاب نہیں بلکہ بدلتے ہوئے سیاسی اور عسکری حالات بھی تھے۔ کشمیر میں جنگ شروع ہو چکی تھی، قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہو چکے تھے اور بھارت میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر پاکستان کو⁦55⁩کروڑ روپے دیے گئے تو وہ رقم کشمیر میں بھارت کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے بھارتی حکومت نے بقیہ رقم روکنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل وقت تھا۔ نئی ریاست ابھی اپنے انتظامی ڈھانچے کو قائم کر رہی تھی، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ درپیش تھا، سرکاری ادارے قائم کیے جا رہے تھے اور مالی وسائل شدید محدود تھے۔ ایسے میں پاکستان کے حصے کی رقم روک لیا جانا ایک سنگین مالی مسئلہ تھا۔

پھر گاندھی میدان میں آئے

جنوری⁦1948⁩میں گاندھی دہلی میں موجود تھے۔ تقسیم کے بعد دہلی میں ہندو، سکھ اور مسلمان آبادی کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ مسلمانوں کے گھروں اور املاک پر قبضے، نقل مکانی، مساجد کے مسائل اور فرقہ وارانہ تشدد نے صورتحال انتہائی خراب کر دی تھی۔

📅 بھوک ہڑتال کا دورانیہ

گاندھی نے اس صورتحال کے خلاف اپنی آخری بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ان کی بھوک ہڑتال⁦12⁩جنوری⁦1948⁩کو شروع ہوئی اور⁦18⁩جنوری کو ختم ہوئی۔ گاندھی کا مقصد صرف حکومتِ ہند پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا بلکہ دہلی میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جس میں مسلمان بھی خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔

ان کے مطالبات اور اصرار میں مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ، مساجد کی واپسی، مسلمانوں کو دہلی میں آزادانہ نقل و حرکت اور فرقہ وارانہ امن کی بحالی جیسے معاملات شامل تھے۔

اسی دوران پاکستان کے⁦55⁩کروڑ روپے کا مسئلہ بھی گاندھی کے سامنے موجود تھا۔


55 کروڑ روپے کا فیصلہ

یہاں اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو سامنے آتا ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کو یہ رقم دینے سے گریز کر رہی تھی۔ لیکن گاندھی نے اس مؤقف کی مخالفت کی۔

14 جنوری کو بھارتی حکومت کے اجلاس میں⁦55⁩کروڑ روپے کی ادائیگی کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ اگلے دن،⁦15⁩جنوری⁦1948⁩کو حکومتِ ہند نے پاکستان کو باقی⁦55⁩کروڑ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا، یعنی گاندھی کی بھوک ہڑتال کے دوران بھارتی حکومت نے وہ رقم جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی جسے اس سے پہلے روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ بات تاریخی ریکارڈ میں بھی ملتی ہے کہ گاندھی پاکستان کو اس رقم کی ادائیگی کے حق میں تھے اور حکومت پر اس معاملے میں اپنا اثر استعمال کر رہے تھے۔ لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے⁦:⁩گاندھی پاکستان کے سیاسی مخالف تھے، لیکن ان کے نزدیک اگر تقسیم کے معاہدے کے تحت کوئی رقم پاکستان کا قانونی حق بنتی ہے تو اسے روکنا اخلاقی طور پر درست نہیں تھا۔

ان کا اصول یہ تھا کہ ریاستی اختلاف یا دشمنی کسی فریق کے جائز حق کو ختم نہیں کرتی۔

⚱️ انجام

گاندھی نے⁦18⁩جنوری کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کی، اور ٹھیک اس کے⁦12⁩دن بعد،⁦30⁩جنوری⁦1948⁩کو، ناتھورام گوڈسے نے انہیں قتل کر دیا۔

ع ح
علی حیدر
تاریخی و سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں

ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

55 کروڑ روپے برصغیر کی تاریخ پاکستان پاکستان بھارت تعلقات تاریخ پاکستان تاریخ ہند تقسیم ہند جنوری 1948 دہلی کے مسلمان فرقہ وارانہ فسادات قیام پاکستان کشمیر تنازع گاندھی اور پاکستان گاندھی کی بھوک ہڑتال مہاتما گاندھی ناتھورام گوڈسے
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleپدرشاہی نظام کا شکار ایک اور بیٹی
Next Article خوف کا خاتمہ، اب اگلا قدم کیا ہے؟
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.