برطانیہ میں یہود دشمنی کے خدشات:اسرائیل منتقل ہونے میں یہودی خاندانوں کی دلچسپی بڑھ گئی
لندن میں امیگریشن میلے میں1,200سے زائد برطانوی یہودیوں کی شرکت، جبکہ130یہودی ڈاکٹروں نے اسرائیل کے طبی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع کا جائزہ لیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ممکنہ تارکینِ وطن میں اسرائیل منتقل ہونے کی غیر معمولی عجلت دیکھی جا رہی ہے۔
لندن میں امیگریشن میلے میں1,200سے زائد برطانوی یہودی شریک
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی کے خدشات کے باعث یہودی خاندانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل منتقل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیلی امیگریشن حکام کے مطابق، ممکنہ تارکینِ وطن میں اسرائیل جانے کے حوالے سے غیر معمولی عجلت کا احساس پایا جا رہا ہے۔
وائی نیٹ نیوز (Ynet News) کے مطابق، اتوار کو لندن میں منعقد ہونے والے ایک امیگریشن میلے میں1,200سے زائد برطانوی یہودیوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اسرائیل منتقل ہونے کے امکانات اور وہاں نئی زندگی شروع کرنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
لندن کے امیگریشن میلے میں شرکت کرنے والے برطانوی یہودی
ایک علیحدہ تقریب میں اسرائیل کے طبی شعبے میں روزگار کے مواقع کا جائزہ لینے والے یہودی ڈاکٹر
اسی رپورٹ کے مطابق،130یہودی ڈاکٹروں نے ایک علیحدہ تقریب میں شرکت کی، جہاں اسرائیل کے صحت کے نظام میں ملازمت کے مواقع اور پیشہ ورانہ امکانات پر غور کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی
اسرائیل کی وزارتِ علیا و انضمام کی ڈائریکٹر جنرل دیگنیت سانکر-لینج نے کہا کہ برطانوی یہودیوں میں اسرائیل منتقل ہونے کے لیے بڑھتا ہوا عزم ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
— دیگنیت سانکر-لینج، اسرائیلی وزارتِ علیا و انضمام کی ڈائریکٹر جنرل، وائی نیٹ نیوز کے مطابق
اسرائیلی اصطلاح میں ”علیا“ (Aliyah) سے مراد یہودیوں کی اسرائیل ہجرت ہے۔ سانکر-لینج کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکام برطانیہ سے آنے والی دلچسپی کو معمول کی نقل مکانی سے زیادہ فوری نوعیت کی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امیگریشن تقریبات کے باہر مظاہرے اور سکیورٹی انتظامات
یہ امیگریشن تقریبات سخت سکیورٹی انتظامات کے ماحول میں منعقد ہوئیں۔ ان کے باہر فلسطین کے حامی مظاہرین جمع ہوئے اور اسرائیل مخالف لٹریچر تقسیم کیا۔
تاہم، دستیاب رپورٹ میں ان مظاہروں کے شرکا کی تعداد یا ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے مظاہروں کی نوعیت اور دائرے کے بارے میں مزید نتائج اخذ کرنے کے لیے اضافی معلومات درکار ہوں گی۔
یہود دشمنی کے علاوہ روزگار اور قومی شناخت بھی اہم عوامل
سانکر-لینج نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہود دشمنی کے خدشات اسرائیل منتقل ہونے کے فیصلے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔
پیشہ ورانہ مواقع، قومی شناخت سے وابستگی اور اسرائیل میں اپنا مستقبل تعمیر کرنے کی خواہش بھی ممکنہ تارکینِ وطن کو متاثر کر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے لیے منعقدہ علیحدہ تقریب اس بات کی مثال ہے کہ روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔
اسرائیل منتقل ہونے کے رپورٹ میں بیان کردہ اہم عوامل
سماجی تحفظ: برطانیہ میں یہود دشمنی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات۔
پیشہ ورانہ مواقع: خصوصاً طبی شعبے میں ملازمتوں اور کیریئر کے امکانات۔
قومی شناخت: اسرائیل سے وابستگی اور وہاں زندگی گزارنے کی خواہش۔
مستقبل کی منصوبہ بندی: اسرائیل میں مستقل رہائش اور نئی زندگی کی تعمیر۔
برطانیہ اور فرانس سے یہودی ہجرت پر اسرائیل کی توجہ
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس سے یہودی ہجرت کو اپنی ترجیحات میں زیادہ اہمیت دی ہے۔ ان دونوں ممالک میں یہود دشمنی کے خدشات نے بعض یہودی خاندانوں کے اندر نقل مکانی میں دلچسپی بڑھائی ہے۔
لندن میں منعقدہ تقریبات اس رجحان کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں، جہاں ممکنہ تارکینِ وطن نے اسرائیل میں رہائش، روزگار اور مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
تاہم، امیگریشن میلے میں شرکت یا معلومات حاصل کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہر شریک نے اسرائیل منتقل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس رجحان کے حجم اور طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدہ ہجرت کے اعداد و شمار اور مزید شواہد درکار ہوں گے۔
یہودی ہجرت کے رجحان پر بڑھتی ہوئی توجہ
برطانیہ میں یہود دشمنی کے خدشات اور اسرائیل منتقل ہونے کے امکانات کے بارے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی نے امیگریشن کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ لندن کے میلے میں بڑی تعداد میں شرکت اور ڈاکٹروں کے لیے الگ تقریب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض ممکنہ تارکینِ وطن سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اور ذاتی مستقبل کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کر رہے ہیں۔
اس رجحان کی حقیقی وسعت جاننے کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کتنے افراد معلومات حاصل کرنے سے آگے بڑھ کر مستقل ہجرت کرتے ہیں، اور ان کے فیصلوں پر سماجی حالات، روزگار اور ذاتی ترجیحات کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
